ابنا: دارالحکومت تھران سمیت پورے اسلامی جمہوریہ ایران میں مجالس عزا کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور امام بارگاہوں اور مساجد میں فرش عزا بچھادی گئی ہے۔ ایران کے مقدس شہروں مشہد و قم میں بھی ہر طرف سیاہ پرچم نظر آرہے ہیں جبکہ گلی کوچوں میں بڑی بڑی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ مجالس عزا میں مقررین نے فلسفہ شہادت امام عالی مقام اور عزاداری سیدالشہداء کی فضیلت پر روشنی ڈالی اور یہ سلسلہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہے گا۔محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہي کربلائے معلي،نجف اشرف اور کاظمين شريفين کے روضوں پر نصب پرچم تبديل کر ديئے گئے ہيں- پرچموں کي تبديلي کي رسومات منگل کي رات ادا کي گئيں جس ميں ہزاروں کي تعداد ميں عاشقان اہليبيت شريک تھے-کربلائے معلي ميں سيد الشہدا حضرت امام حسين عليہ السلام اور آپ کے بھائي علمدار کربلاحضرت عباس عليہ السلام کے روضے پر نصب سرخ پرچم اتارکر اور غم کي علامت کے طور پر سياہ پرچم نصب کرديئے گئےہیں۔پرچم کي تبديلی کے بعد عراق بھر ميں شہدا کربلا کي عزاداري کا باقاعدہ آغاز ہوگيا ہے-پرچم کي تبديلي کي رسم براہ راست عراقي ٹيلي ويژن سے نشر کي گئي-نجف اشرف ميں حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام کے روضہ اطہر پر نصب پرچم بھي تبديل کرکے سياہ پرچم نصب کر ديا گيا ہے-بعدازاں کاظمين شريفين ميں بھي آئمہ طاہرين کے روضوں پر نصب پرچم کي تبديلي عمل میں آئي-يہاں اس بات کا ذکر ضروري ہے کہ عربوں ميں رائج رسم کے مطابق سرخ پرچم اس بات کي علامت ہے کہ مقتول کے گھروالوں نے ابھي اپنے شہدا کے خون کا انتقام نہيں ليا ہے اور جب تک انتقام نہيں لے ليا جاتا سرخ پرچم گھر کے دروازے پر نصب رہتا ہے-قابل ذکر ہے کہ سيد الشہدا حضرت امام حسين کے روضے پر نصب سرخ پرچم صرف آپ کے ايام شہادت پر چاليس دن کے لئے اتار اجاتا ہے اور اسکي جگہ غم کي علامت کے طور پر سياہ پرچم لہرايا جاتا ہے-پاکستان اور ہندوستان میں بھی آج کی شب سے عزاداری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
.......
/169